Breaking News
Home / دل / امراض قلب اور طب نبویﷺ کے کمالات

امراض قلب اور طب نبویﷺ کے کمالات

چھاتی میں محسوس ہونے والا یہ جان لیوا درد عام طور پر ناگہانی طور پر شروع ہوتا ہے اور پھر بڑھتا جاتا ہے‘ بنیادی طور پر یہ دل کو خون مہیا کرنے والی شریانوں کی بندش ہے کبھی تو یہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے ا ور کبھی فوراً ہی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حیوانی ذرائع سے حاصل ہونے والی چکنائیاں دل کی نالیوں کو بند کردیتی ہیں۔ cigarette پینے والوں کو دل کے دورہ کا اندیشہ دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے‘ آرام طلبی‘ تفکرات اور بسیار خوری کو دل کی بیماریوں کا باعث قرار دیا جاتا ہے۔
دل کے دورے کی سب سے بڑی علامت درد ہے یہ درد کبھی اتنا شدید ہوتا ہے کہ مریض تڑپنے لگتا ہے ایک امریکن اخبار نویس نے اپنی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے بتایا’’ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چھاتی کے اندر لوہے کا جلتا ہوا کوئلہ رکھ دیا گیا ہے‘‘ درد کا آغاز عام طور پر چھاتی کے وسط میں سامنے کی طرف سے ہوتا ہے پھر یہ دائیں اور بائیں بازو میں بھی محسوس ہونے لگتا ہے ایسا لگتا ہے کہ ہاتھ بھاری ہوگئے ہیں اور fingers میں سوئیوں کی چبھن محسوس ہوتی ہے یہاں سے درد گردن کے پیچھے کندھوں کے درمیان بھی چلا جاتا ہے‘ چلنے پھرنے سے درد میں اضافہ ہوتا ہے۔
مریض کو ٹھیک سے سانس نہیں آتا‘ سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے کبھی کبھی اصل تکلیف صرف سانس میں تنگی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
اکثر مریضs کو شدید متلی ہوتی ہے کئی مریضs میں صرف یہی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ دل کو خون کی بہرسانی کی بندش صدمہ کی شدید کیفیت پیدا کردیتی ہے‘ ٹھنڈے پسینے آنے لگتے‘ بے قراری‘ گھبراہٹ‘ weakness‘ پریشانی اپنی انتہا تک چلے جاتے ہیں‘ بلڈپریشر میں دورہ کے دوران اضافہ ہوسکتا ہے لیکن عام طور پر بعد میں کم ہوجاتا ہے۔
دل کے دورے کو نبی اکرم ﷺ نے بڑی importance عطا فرمائی ہے فرمایا: ’’تمہارے جسم میں گوشت(meat) کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ تندرست ہو تو سارا جسم تندرست رہتا ہے اور جب وہ بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے اور یہ لوتھڑا دل ہے۔ ‘‘(مسلم‘ بخاری)
آپ ﷺ نے دل کی بیماریوں سے بچنے اور ان کے مرض کے متعدد اسلوب عطا فرمائیں ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے دل کی بیماریوں کے مرض اور بچاؤ کیلئے غذا میں ایسے عناصر کی نشاندہی فرمائی ہے جن کو کھانے سے دل کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اگر وہ بیمار ہوں تو تندرستی حاصل ہوتی ہے ان غذاؤں میں سب سے اہم جو کا دلیہ ہے۔
جو کا دلیہ: نبی اکرم ﷺ نے جو کے فوائد میں دو اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ٭ مریض کے دل سے بوجھ کو اتار دیتا ہے۔ ٭ غم اور فکر سے نجات دیتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’دل کے مریض کیلئے تلبینہ تمام مسائل کا حل ہے یہ دل سے غم کو اتار دیتا ہے۔ (بخاری‘ مسلم)
جو کا دلیہ پہلے پانی(water) میں پکا لیا جائے پھر ضرورت اور ذائقہ کے مطابق milk اور شہد(honey) شامل کیا جائے اسے تلبینہ کہتے ہیں۔
آپ کی گرامی رائے میں بیمار کیلئے دلیہ سے زیادہ کوئیمفید اور power بخش غذا نہ تھی وہ اسے دن میں کئی بار گرم گرم کھلاتے تھے۔ جو کا دلیہ بیمار کی weakness اور اس کے جسم کی power مدافعت کو بڑھانے کیلئے تجویز فرمایاگیا لیکن اس کی اصل importance دل کی بیماریوں کو دور کرنے کیلئے قرار پائی ‘ وہ دل کے جملہ عوارض میں جو کے دلیہ کے بہت قائل تھے۔ وہ مریض کو جو کے دلیہ میں شہد(honey) ڈال کر کھلانا پسند فرماتے تھے۔ جدید research سے ثابت ہوا ہے کہ خون سے کولیسٹرول کو نکالنے کی سب سے اہم اور مجرب دوائی جو کا دلیہ ہے۔ اس میںمفید عناصر کی ایک معقول مقدار پائی جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ چکی کا بنا ہوا جو کا دلیہ استعمال کیا جائے۔ جو کا دلیہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہے۔ جو بطور روٹی‘ دلیہ‘ ستو اور اس کا پانی(water) بنا کر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
شہد(honey): weakness دور کرنے کیلئے شہد(honey) قدرت کا انمول تحفہ ہے‘ خون کی نالیوں کو کھولتا ہے‘ اعصاب کو طاقت دیتا اور دل کے عضلات پر سے بیماری کے اثرات کو اتارتا ہے‘ دل کی بیماریوں کے مرض کیلئے 4-6 بڑے tea spoon ایسے وقت میں لینےمفید ہوں گے جب پیٹ خالی ہو۔ بند نالیوں کو کھولنے کیلئے نبی اکرم ﷺ نے شہد(honey) کو ابلے پانی(water) میں دینا پسند فرمایا ہے۔
بہی: نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک میں ایک روز بہی کا پھل تھا اس واقعہ کو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہٗ یوں بیان فرماتے ہیں: ’’انہوں نے پھل مجھے دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ دل کی تکلیف (دورہ) کو دور کردیتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ) دل کے دورہ اور اس کی گھٹن کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے کئی مرتبہ خوشخبری سنائی ’’سفرجل (بہی) کھاؤ کہ یہ دل کی تکلیف کو دور کرتا ہے اور سینہ کی گھٹن کو دور کرتا ہے۔ (ابونعیم‘ ابن النسی)
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بہی کی بہترین قسم اس کا مربہ قرار دیا ہے بہی کو نہار منہ کھانا چاہیے شہد(honey) کے شربت کے ساتھ ایک سے دو قاشیں ناشتے سے پہلے کھالی جائیں۔
کھجور:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہٗ ایک روز بیمار ہوگئے وہ اپنی روئیداد یوں سناتے ہیں۔ ’’میں بیمار ہوا میری عیادت کو رسول پاک ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا تو اس ہاتھ کی ٹھنڈک میری پوری چھاتی میں پھیل گئی‘ پھر فرمایا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے‘ اسے حارث بن کلدہ کے پاس لے جاؤ جوثقیف میں مطب کرتا ہے حکیم کو چاہیے کہ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر اسے کھلائے۔‘‘ (داؤد‘ احمد‘ نعیم)
دل کے دورہ میں کھجور کو گٹھلی سمیت کوٹ کر دینا جان بچانے کا باعث ہوتا ہے۔ احادیث میں اس غرض کیلئے عجوہ کھجوریں تجویز کی گئیں ہیں تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس غرض کیلئے دوسری کھجوریں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں مگر ان کا عرصہ استعمال طویل ہونا چاہیے۔زیتون کا تیل: ’’زیتون کا تیل کھاؤ اور لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفاء ہے جن میں سے ایک جذام بھی ہے۔‘‘ (ابونعیم)
قلب کی حفاظت کیلئے vitamin ای کا استعمال ضروری ہے‘ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک research کے مطابق زیتون کے تیل کو اس اعتبار سے سورج مکھی‘ مکئی اور نہ جمنے والے تیلوں پر فوقیت حاصل ہے vitamin ای fats میں شامل ہوکر مغز قلب کولیسٹرول ایل ڈی ایل کو بے اثر کردیتا ہے۔ جو خوراک قلب دوست روغن زیتون سے بھرپور ہوتی ہے وہ خون میں زیادہ کثافت والی روغنیات ایل‘ ڈی‘ ایل کو بڑھانے میں بہتمفید ہیں جوکہ خون کی نالیوں میں روغن کو منجمد کرنے اور دل کی شریانوں کی بیماری میں حفاظتی عنصر ہے۔ اس کا استعمال بلڈپریشر کو controlمیں رکھتا ہے‘ power مدافعت میں اضافہ کرتا ہے‘ زیتون کا تیل ایک ایسی چکنائی ہے جو دوسری چکنائیوں کو بھی ہضم(digest) کرتی ہے

About admin

Check Also

اکسیر قلب جواہر مہرہ

یہ دوائی دل کی بیماریوں کیلئے نایاب تحفہ ہے۔ دل کی تمام بیماریوں‘ یعنی اختلاج ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *