Home / others / اپنڈکس ۔۔۔ ایک دردful اور مہلک مرض

اپنڈکس ۔۔۔ ایک دردful اور مہلک مرض

اپنڈکس ۔۔۔ ایک دردful اور مہلک مرض — ڈاکڑر محإد الیاس ، جہلم   اپنڈکس ایک عام سالفظ ہے اور ہم میں سے ہر ایک تقریباً اس لفظ سے نہ صرف واقف ہے بلکہ اس خطرے سے بھی دوچار ہوچکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ اپنڈکس ہے کیا بلا؟ یہ مضمون اپنڈکس کے بارے میں کئی سوالوں کے جواب دے گا اور یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ اپنڈکس ہے کیا چیز؟ اور کوئی ضروری نہیں ہے کہ اس کا درد اس وقت ہو جب آپ خوب پیٹ بھر کر کھانے کے بعد بھاگ دوڑ کاکام کریں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم میں سے بہت سوں کو اس چھوٹے سے عضو کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے جو ہمارے پیٹ کے دائیں حصے میں ایک تھیلی کی صورت میں ہوا کرتا ہے اور جب وہ اپنی موجودگی اور اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کرتا ہے اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور ہم تکالیف میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں۔
علامات
اپنڈی سائیٹس کی ابتدا کچھ اس انداز سے ہوتی ہے۔ اس کا مریض ابتدا میں اپنی ناف کے پاس ہلکا یا تیز درد محسوس کرتا ہے۔ ذرا سی حرکت بھی اس درد کی شدت کو تیز کردیتی ہے۔ مثال کے طور پر ہلکی سی cough یا چھینک سے بھی اس درد کی شدت میں تیزی آجاتی ہے۔
مریض کو weakness‘ غنودگی محسوس ہونے کے علاوہ اس کی بھوک میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ عام طور پر اس کے مریضs کو قبض کی شکایت ہوجاتی ہے لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو بدہضم(digest)ی ہوجاتی ہے اور پیٹ خراب ہوجاتا ہے۔
مریض کو ہلکا ہلکا بخار بھی ہوسکتا ہے جبکہ بچوں کو اپنڈکس کا شکار ہونے کے بعد تیزبخار ہوجاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نبض کی رفتار بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔
پہلی علامت کے چند گھنٹوں بعد وہ درد ناف کے پاس سے منتقل ہوکر پیٹ کے دائیں نچلے حصے میں چلا جاتا ہے جہاں اپنڈکس واقع ہے۔اس کے بعد وہ پورا حصہ انتہائی دردful ہوجاتا ہے اور درد کی لہریں پورے پیٹ کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔
جیسے جیسے درد بڑھتا جاتا ہے اور بخار کی شدت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ویسے ویسے ایک اور خطرہ سامنے آنے لگتا ہے اور وہ ہے اپنڈکس کے پھٹ جانے کا۔ اور یہ ایک بہت خطرناک صورتحال ہوا کرتی ہے۔ اپنڈکس کے پھٹنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس میں پیپ بھرتی جاتی ہے اور یہ مسلسل ورم کرتے کرتے اپنی انتہا کو پہنچ کر پھٹ جاتا ہے اور جب اپنڈکس پھٹ جائے تو اردگرد کے اعضاء بری طرح متاثر ہوجاتے ہیں۔ ہر طرف infection پھیل جاتا ہے‘ زہر بھرجاتا ہے۔
اگر بخارکے ساتھ غنودگی اور پیٹ میں اپنڈکس کی جگہ درد ہو تو دیر کرنے اور ادھر ادھر کی دوائیں استعمال کرنے کے بجائے فوری طور پر doctor سے رجوع کریں۔ اس قسم کا درد doctorکی فوری توجہ چاہتا ہے تاکہ اپنڈکس ہو تو اس کی تشخیص کرکے فوری مرض شروع کردیا جائے۔ یہ درد ہر ایک کو ہوسکتا ہے لیکن عام طور پر اس سے بیس سے تیس سال تک کی عورتیں اور مردوں کے مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
وجوہات: اپنڈی سائیٹس آخر ہے کیا؟ اپنڈکس ایک چھوٹی سی تھیلی ہوتی ہے جو بڑی اور چھوٹی آنتوں کے سنگم پر واقع ہوتی ہے۔ اپنڈکس بنیادی طور پر دوسرے عضو کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے لیکن بذات خود اس کا اپنا کوئی خاص عمل نہیں ہوا کرتا یعنی جس طرح انسانی جسم کے دوسرے اعضا کام کیا کرتے ہیں اپنڈکس کاایسا کوئی کام نہیں ہے۔
اپنڈکس انسانی جسم کا کوئی benefit پہنچانے والا عضو تو نہیں ہے لیکن جب اس میں خرابی واقع ہوجائے تو یہ نقصان ضرور پہنچاسکتا ہے اور یہ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فاضل غذائیں ذرات اور دیگر غیر ضروری چیزیں دونوں قسم کی آنتوں کے درمیان رکاوٹ پیداکردیتے ہیں اور اس رکاوٹ کی وجہ اپنڈی سائیٹس کے بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں اور infection اور انفلامیشن کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔
اپنڈکس کی پہچان کے طریقے:اس مرض کی تشخیص کا طریقہ یہ ہے کہ doctor حضرات اپنڈکس کی جگہ پیٹ کو دبا کر دیکھتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت عام اور کارآمد ہے اگر کوئی اس مرض میں مبتلا ہے تو اس طرح وہ اپنے پیٹ میں بہت تکلیف محسوس کرے گا۔
دوسرا مرحلہ خون کی جانچ کا ہے اگر خون میں سفید ذرے معمول سے زیادہ مقدار میں پائے جائیں تو یہ مرض یقینی ہوجاتا ہے اور سفید سیل کے زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مریض کے پیٹ میں infection کا عمل شروع ہوچکا ہے اور سفید سیل کی مقدار زیادہ اس لیے ہوتی ہے کہ جسم اس مرض سے نمٹنے کیلئے سفید سیل کی پیداوار خودبخود بڑھادیتا ہے۔
اس مرض کی جانچ بہت احتیاط سے کی جاتی ہے کیونکہ اس سے ملتی جلتی اور بھی کئی چیزیں ہوسکتی ہیں جیسے kidney میں kidney stone‘ infection‘ بلیڈر (لبلبہ) کی خرابی وغیرہ۔ اس لیے آخری مرض سے پہلے حتمی طور پر اس نتیجے پر پہنچا جائے کہ مرض وہی ہے۔ عورتیں کی جانچ کے سلسلے میں اور بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے کیونکہ حمل کے دوران بھی ایسی علامتیں ہوجاتی ہیں جو اپنڈی سائی ٹیز سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔
مرض: اپنڈی سائیٹس کو روکا نہیں جاسکتا۔ بہرحال مناسب اور بروقت مرض کے ذریعے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے وہ لوگ جو اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں انہیں اپنے معالج سے مشورے کے بغیر کھانے پینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ دوائیؤں کے استعمال میں بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی پینے کا سیال مشروب ان کی آنتوں کی حرکات کو بڑھا سکتا ہے اور اس طرح اپنڈکس کے پھٹ جانے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اپنڈکس کے مرض کا سب سے مؤثر اور عام طریقہ operation ہے اس کے بعد مزید infection سے محفوظ رہنے کیلئے مریض کو اینٹی بائیٹک دوائیں دی جاتی ہیں۔ بہت سے لوگوں کے اپنڈکس نکالے جاسکتے ہیں اور کوئی بھی شخص ان کے بغیر بھی معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ بہت سے احتیاط پسند ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنڈکس کی کسی تکلیف کے نہ ہونے کے باوجود اپنڈکس کو operation کے ذریعے نکلوالیا ہے کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ پرہیز مرض سے بہتر ہے۔
مختصر علامات
اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی علامت محسوس ہو تو فوری طور پر اپنے doctor سے رجوع کریں۔
ناف کے نیچے درد ہونا٭ بخار٭ قبض یا اس کے برعکس ٭ نبض کی رفتار کا تیز ہونا ٭ چند گھنٹوں کے بعد درد کا ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونا ٭ بھوک کی کمی ٭ غنودگی وغیرہ…



About admin

Check Also

Diets that give energy but dont increase weight

There are many diets that give you energy but don’t increase your weight. These diets ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *