Home / ڈیپریشن / زندگی میں چیلنجز یا مسائل

زندگی میں چیلنجز یا مسائل

glass کو گرا دیں



ایک پروفیسر صاحب نے اپنے ہاتھ میںپانی(water) سے بھرا glass پکڑ کر کلاس شروع کی‘ انہوں نے اسے ایسے پکڑ رکھاتھا کہ سب دیکھیں‘ طالبعلموں سے پوچھا‘ آپ کے خیال میں اس glass کا weight کتنا ہوگا‘ 50گرام‘ 100گرام یا 125گرام‘ طالبعلموں نے جواب دیا۔پروفیسر نے کہا میں واقعی نہیں جان سکتا جب تک weight نہ کرلوں‘ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ میں اسے چند منٹ اسے اوپر پانی(water) کیساتھ اٹھائے رکھوں تو پھر کیا ہوگا؟ ایک طالبعلم نے کہا کہ آپ کی بازو میں درد شروع ہوجائیگا‘ آپ ٹھیک کہہ رہے ہو‘ تب کیا ہوگا اگر آپ سے اسی حالت میں پورا ایک دن اٹھائے رکھتے ہو‘ آپ کی بازو سن ہوجائیگی‘ ہوسکتا ہے کہ آپ کے پٹھوں میں شدید قسم کا کھچاؤ پیدا ہوجائے اور فالج ہوجائے اور آپ کومرض کیلئے ہسپتال جانا پڑجائے۔
بہت اچھے‘ لیکن کیا اس تمام عمل کے دوران glass کا weight تبدیل ہوا‘ پروفیسر نے پوچھا۔ طالبعلم کا جواب تھا نہیں۔ لیکن اس بازو کے درد ہونے کی وجہ اور پٹھوں کے کھچاؤ کی کیا وجہ تھی؟ طالب علم پھر حیران ہوگئے۔ پروفیسر صاحب نے دوبارہ پوچھا کہ مجھے اس درد سے باہر آنے یا نکلنے کیلئے اب کیا کرنا چاہیے۔ طالب علموں نے کہا glass نیچے رکھ دیں‘ بالکل ٹھیک۔
پروفیسر نے کہا:زندگی کی مشکلات بھی بالکل اسی طرح کی ہیں‘ اگر آپ انہیں کچھ دیر کیلئے اپنے ذہن میں رکھیں گے تو وہ بالکل ٹھیک نظر آئیں گی‘ اگر آپ ان کے بارے میں زیادہ لمبے عرصے تک سوچتے رہیں گے یہ مسائل آپ کیلئے دردful بننا شروع ہوجائیں گے۔ مطلب یہ کہ اگر آپ ان مسائل کو لمبے عرصے تک ذہن میں رکھیں تو یہ آپ کو فالج زدہ کرنا شروع کردیں گے اور آپ کچھ کرنے کے قابل نہ رہیں گے۔
اپنی زندگی میں چیلنجز یا مسائل کے بارے میں سوچنا اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہر دن کے آخر میں جب آپ سونے کیلئے جائیں اس سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے مٹادیں‘ اس طرح کرنے سے آپ کو کوئی problem‘ پٹھوں میں کھچاؤ‘ ذہنی پریشانی نہ ہوگی‘ آپ ہر دن فریش… طاقتور اور کسی بھی ایشو‘ problem یا اپنی راہ میں آنے والے چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے

About admin

Check Also

Depression — Feel Better with These Natural Antidepressants

CONSIDER THIS: You’re lying on the couch, unable to motivate yourself enough to get up ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *