marriage میں سمجھوتے کا جذبہ کریں —

marriage کے بارے میں اب تک بہت کچھ لکھا‘ سنا اور کہا گیا ہے لیکن اس کے باوجود marriage ایسا چار حرفی لفظ ہے جس پر جتنا کہا جائے اتنا ہی کم ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیشہ اس بارے میں کہنے کی گنجائش موجود رہتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو نہ صرف تہذیب یافتہ معاشرے کی ضرورت ہے بلکہ یہ ایک زندگی کی حقیقت بھی ہے اور اس کی اتنی ساری جہتیں اور سمتیں ہیں کہ آپ marriage پرساری عمر بھی لکھتے رہیں تو اس کے کئی پہلو پھر بھی بحث سے رہ جائینگے۔
ایک دوسرے کیساتھ تعاون کاجذبہ: انسان کی زندگی کے مطابق مقابلہ کرتے ہیں۔ marriage کی زندگی کی تیاری ایک رات میں نہیں ہوسکتی۔ بچے کا خاص چال چلن‘ اس کے خیالات اس کے طرز اور اس کے افعال سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود کو جوانی اور اس کے بعد کیلئے کس طرح تیار کررہا ہے۔ بچہ پانچویں یا چھٹے سال ہی میں محبت کے اہم اصول اپنے لیے قائم کرلیتا ہے۔
بچے اور جنسی معلومات: عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ بچوں کے ذہن میں یہ تصور بہت پختہ ہوتا ہے کہ ان کی ایک بیوی یا شوہر ہوگا یہاں تک کہ ایسے بچے جن کے والدین آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ان کا بھی یہی حال ہوتا ہے کہ انہیں جوانی میں ایک ساتھی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ بچہ marriage کے بارے میں جو خیال رکھتا ہے وہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر بچے کو غلط سمجھا دیا گیا ہو تو وہ marriage کو خطرناک چیز سمجھتا ہے اور اس کو اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ حال ہی میں کی گئی ایک اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کو چار پانچ یا چھ برس کی عمر میں جنسی معلومات سے آگاہ کردیا گیا تھا وہ بڑی عمر میں عشق و محبت اور marriage سے گھبراتے اور کسی کی خوبصورتی یا کشش کو وہ اپنے کیلئے خطرے کی گھنٹی تصور کرتے تھے۔ اس معاملے میں بچے کی صحیح تربیت کرنے کیلئے بعض افراد کا خیال ہے کہ ان کی غلط رہنمائی نہ کی جائے ان سے جھوٹ نہ بولا جائے۔ بچے کو اتنا ہی سمجھادیں جتنا وہ معلوم کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا تجسس بہت زیادہ نہ بڑھے۔ ضرورت سے زائد معلومات بچے کیلئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔
حسن سے رغبت غلط جذبہ نہیں: بعض والدین بچوں کی جمالیاتی حس کو ختم کرنے کے درپے ہوتے ہیں وہ بچوں کو ایسا موقع نہیں ملنے دیتے کہ بچے میں جمالیاتی حسن پروان چڑھے۔ یادرک(Zingiber or ginger)ھیں کہ بذات خود خوبصورتی یا حسن پرستی کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اس چیز کا اظہار ہے کہ آپ کیسے کرتے ہیں کیا اس اظہار میں اسلامی معاشرتی حدود و قیود کا خیال نہیں رکھا جاتا؟ اس میں صرف اپنا مفاد ہی عزیز جانا چاہتا ہے؟ کیا حسن پرستی اسے دیگر تقاضوں کی انجام دہی سے محروم کردیتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یقیناً یہ معاشرتی اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ انہیں خوبصورتی سے ڈرایا نہ جائے۔ انہیں مثبت سوچ دی جائے۔
marriage میں سمجھوتے کا جذبہ: بعض لوگ کہتے ہیں کہ سمجھوتوں پر پوری زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ ہوسکتا ہے کہ اس جذباتی جملے کی کوئی اپنی importance ہولیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں زندگی کے قدم قدم پر سمجھوتوں سے کام لینا پڑتا ہے لیکن یہ سمجھوتے ضروری نہیں کہ ایسے ہوں جو مزاج کے خلاف ہوں۔ یہ سمجھوتے بہت اچھے بھی ہوتے ہیں مثلاً دونوں میاں بیوی کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی برقرار رکھیں گے۔ آزادی سے مراد فیصلہ کرنے‘ سوچنے اور جسے درست سمجھا جارہا ہو اس پر عمل کرنے کا نام ہے۔ ایک دوسرے پر مسلط ہونے کا احساس نہ ہو۔ یہ احساس اس خوبصورت رشتے کو گہنا کررکھ دیتا ہے۔ اکثر ہمارے ہاں دونوں جانب سے اس طرح کے مظاہرے کیے جاتے ہیں کہ ہرفرد خود کو جبر تلے زندگی گزارتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
ایک دوسرے سے مخلص رہیں: میاں بیوی کو ہمیشہ ایک دوسرے سے مخلص رہنا ہوتا ہے۔ خلوص میں کمی اس رشتے کو گھن کی طرح کھاجائیگی۔ بیوی ہے تو اسے احساس ہونا چاہیے کہ اس کا شوہر کتنی محنت سے پیسہ کما کر لاتا ہے۔ اسے خرچ کرتے ہوئے اس کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ کہیں اسراف تو نہیں ہورہا‘ کہیں وہ غیر ضروری طور پر اپنے شوہر کی کمائی ضائع تو نہیں کررہی؟ بیوی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے شوہر کے دیگر حقوق بھی ہیں اور اسے پورا کرنے میں اسے اپنے شوہر کی مدد کرنی چاہیے اور بالکل اسی طرح شوہر کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی سے مخلص ہو‘ کسی اور عورت سے اس کا تعلق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ بات یادرک(Zingiber or ginger)ھیں کہ اگر کوئی شخص بے وفائی کو معمولی چیز سمجھتا ہے تو ہرگز marriage کرنے کے قابل نہیں ہے۔
ہمارے ہاں اکثر دیکھا گیا ہے کہ marriage کے شروع ہی میں بعض غلطیاں کی جاتی ہیں۔ ایک شخص جو بچپن سے لاڈ پیار سے بگاڑ دیا گیا ہو marriage کے بعد محسوس کرتا ہے کہ اس سے لاپرواہی برتی جارہی ہے۔ یہ احساس اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس نے سماجی زندگی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تربیت نہیں پائی۔ بعض دفعہ لاڈلا بچہ marriage کے بعد ایک جابر شوہر ثابت ہوتا ہے اور بیوی خود کو مظلوم سمجھتی ہے اور وہ شوہر سے مقابلہ کرتی ہے ایسا شوہر چاہتا ہے کہ بیوی اس کی ہمیشہ دیکھ بھال کرے جبکہ اگر بیوی کی بھی ایسے ہی لاڈپیار سے تربیت کی گئی ہے تو وہ بھی چاہے گی کہ اس کے نازنخرے اٹھائے جائیں۔ یہاں تک کہ وہ پورے سسرال سے توقع کریگی کہ اس کا خیال رکھا جائے اور اس کی خواہشیں الہ دین کے چراغ کی طرح پوری کی جائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے یوں دونوں کی تسلی اور تشفی نہیںہوتی جس کا نتیجہ بعض اوقات یہ بھی نکلتا ہے کہ شوہر کسی اور عورت  میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔
marriage زندگی کا آخری مقصد نہیں: marriage صرف ایک بندھن میں بندھ جانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ قطعی ایک نیادور اور نئی زندگی کا آغاز ہے۔ ایک ایسی زندگی جس کے بارے میں marriage سے پہلے کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات نئے جوڑوں کوایڈجسٹ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ شروع کے سال اگلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ثابت ہوتے ہیں۔ دراصل marriage ہماری جسمانی ضروریات ہی نہیں بلکہ ہماری سماجی زندگی کا بھی مطالبہ ہوتا ہے۔ marriage شدہ افراد معاشرے میں زیادہ پراعتماد اور باعزت خیال کیے جاتے ہیں۔ لوگ انہیں زیادہ قابل بھروسہ سمجھتے ہیں اور زیادہ عزت و توقیر دیتے ہیں۔ اکثر ہمارے ہاں ایک چیز بہت عجیب دیکھی گئی ہے کہ بیشتر لوگ marriage کو زندگی کا آخری مقصد سمجھتے ہیں یہ قطعی بے بنیاد اور غلط تصور ہے۔ ہم ناولوں اور قصے کہانیوں میں ایسے ہی انجام دیکھتے ہیں کہ marriage ہوئی اور کہانی ختم…… جی نہیں! کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے یہ تو مرد اور عورت کی زندگی کی ابتدا ہے لیکن اسے کوئی خوفناک امتحان نہیں سمجھنا چاہیے۔

Leave a Reply

Close Menu
×
×

Cart