Breaking News
Home / وظائف / مراقبے سے مرض

مراقبے سے مرض

Meditation یعنی مراقبہ جہاں ازل سے روحانیت کی ترقی اور مشکلات کے حل کا مرض رہا ہے وہاں جدید سائنس نے اسے امراض کا یقینی مرض بھی قرار دیا ہے۔ ہزاروں تجربات کے بعد Health Tips Urdu کے قارئین کے لئے مراقبے سے مرض پیش خدمت ہے۔ سوتے وقت اگر با وضو اور پاک سوئیں تو سب سے بہتر ورنہ کسی بھی حالت میں صرف 10 منٹ بستر پر بیٹھ کر بلا تعدادیَانُورُ یَابَصِیرُ کا ورد اول و آخر 3 بار درود شریف پڑھیں پھر لیٹ جائیں۔ جس مرض کا خاتمہ یا الجھن کا حل چاہتے ہوں اس کو ذہن میں رکھ کر یہ تصور کریں کہ ” آسمان سے سنہرے رنگ کی روشنی میرے سر سے سارے جسم میں داخل ہو کر اس مرض کو ختم یا الجھن کو حل کر رہی ہے اور اس وظیفے کی برکت سے میں سو فیصداس پریشانی سے نکل گیا/گئی ہوں“ یہاں تک کہ اس تصور کو دہراتے دہراتے نیند آ جائے۔ شروع میں تصور بناتے ہوئے آپکو مشکل ہو گی لیکن بعد میں آپ پر جب اسکے کمالات کھلیں گے تو حیرت کا انوکھا جہان اور مشکلات کا سو فیصد حل خود آپ کو حیرت زدہ کر دیگا۔ مراقبے کے بعد اپنی کیفیات فوائد اور انوکھے تجربات ہمیں لکھنا نہ بھولیں۔

 

محترم حضرت صاحب السلام علیکم! حضرت صاحب آپ نے مجھے بیٹھ کر مراقبہ کرنے کو دیا‘ سونے سے پہلے ”یَاسَلَامُ“ کا وہ میں نے کچھ ہفتے کیا تھا اس میں مجھے چند کیفیات حاصل ہوئیں‘ اُس کے بعد نوچندی جمعرات والے دن آپ نے جو ذکر کروایا تھا اس میں مجھے یہ کیفیت آئی کہ میں خانہ کعبہ میں لوگوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہوں اور ایک چمڑے کا بڑا مشکیزہ آپ نے اٹھایا ہوا ہے اوروہ آپ نے کھڑے ہوکر میری طرف اُنڈیل رکھا ہے جس میں سے چمکتے موتی‘ ہیرے اور سکے میری گود میں پڑرہے ہیں۔اس کے بعد تسبیح خانے میں مراقبے کے دوران مجھے جو کیفیات ہوئیں وہ درج ذیل ہے:۔

 

میں پہلی دفعہ اس میں شامل ہوئی تھی آنکھیں بند کرنے کے بعد دل میںذکر شروع کیا اور پھر میں نے محسوس کیا کہ میں بہت تیزی کے ساتھ اوپر کی طرف جارہی ہوں‘ اتنی تیزی کے ساتھ کے پلک جھپکنے میں بھی دیر نہیں لگتی ہے۔ اس کے بعد یہ کیفیات شروع ہوجاتی ہیں پہلے آسمان پر پہنچ جاتی ہوں وہاں مجھے مدینہ منورہ نظر آتا ہے۔پھر دوسرا آسمان وہاں مجھے مکہ مکرمہ اللہ کا گھر نظر آتا ہے۔ پھر تیسرا آسمان وہاں مجھے فرشتے اوردوسری مخلوقات کا ہجوم نظر آتا ہے اور بزرگ نظر آتے ہیں اورپھر چوتھے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں وہاں پر ایک بہت بڑا تخت ہے اور سبز رنگ کا کپڑا بچھا ہوا ہے اور اس کے پیچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام نام مبارک لکھے ہوئے ہیں اور اس تخت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے چہرہ مبارک نظر نہیں آتا بس ہاتھ مبارک ہے جو نور سے بھرا ہواہے اور نور کے سات پردے اس ہاتھ پر ہیں اور تمام عورتیں میرے اردگرد لائن میں بیٹھی ہوئی ہیں اور وہ نور والا ہاتھ میرے سر کے اوپر رکھا ہوا ہے ہم سب عورتیں اس تخت کے سامنے لائن میں بیٹھی ہوئی ہیں کچھ دیر کے بعد اس سارے ماحول میں ہی میں سائیڈ پر جاکر جائے نماز پر نماز پڑھتی ہوں اور سجدے کی حالت میں رہتی ہوں۔ اس کے بعد مجھے حضرت آدم علیہ السلام نظر آتے ہیں اور ان کے پائوں مبارک کا دیدار ہوتا ہے۔ پھر مجھے نور ہی نور نظر آتا ہے اور میں اس نور کے اندر گم ہوجاتی ہوں۔ وہاں مجھے خوبصورت پھول نظر آتے ہیں اور خوشبوئیں محسوس ہوتی ہیں۔پھر ایک طرف مجھے اللہ لکھا نظر آتا ہے‘ سرخ پھولوں کیساتھ نیچے نیلی چادر ہوتی ہے اور دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھا نظر آتا ہے۔ سورج مکھی کے پیلے پھولوں کے ساتھ نیچے کالی چادر بچھی ہوئی ہے اور میرا دل مجھے کہتا ہے کہ اللہ محبت کرتا ہے سرخ پھولوں کی طرح نیلی چھتری پر بیٹھ کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کالی دنیا میں آکر روشنی پھیلاتے ہیں اس کے بعد مجھے ایسا لگتا ہے کہ سب جنت میں ہیں اور میرے منہ میں بہت مٹھاس ہے اور بار بار میرا منہ بہت اچھے مٹھاس کے ساتھ بھرتا ہے۔ بس پھر دونوں سائیڈوں پر مجھے لائن میں لوگ جاتے ہوئے نظر آتے ہیں ایک طرف سفید کپڑوں میں جارہے ہیں اور دوسری طرف سیاہ کپڑوں میں جارہے ہیں اور سفید کپڑے والوں پر روشنیاں پڑرہی ہیں پھر اس کے بعد مجھے ایک سفید رنگ کا خوبصورت گھوڑا نظر آتا ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک اونٹنی برائون رنگ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی اور ایک سانپ پیلا اور کالا چوڑے منہ والا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرنا چاہتا ہے اس کے بعد مجھے سرخ رنگ کے بالوں والا گندی شکل میں شیطان نظر آتا ہے جس کا سر تلوار کے ساتھ علیحدہ ہوتا ہوا میں دیکھتی ہوں اس دوران آپ حضرت حکیم صاحب اور تمام فرشتے اور مخلوقات ہمارے ساتھ موجود ہیں اور اس کے بعد میں سیڑھیاں چڑھتی ہوں اور ایک چھوٹا گرے کلر کا دروازہ نظر آتا ہے اور وہ میرے خواب میں کبھی کھلتا نہیں تھا آج وہ کھلا اور پھر میں نے دیکھا کہ وہاں نیچے بہت دور خانہ کعبہ ہے یہ بالکل درمیان میں ہے اور مجھے چھوٹا سا نظر آرہا ہے اور اردگرد ساری دنیا ہے اور گردآلود ماحول ہے‘ سرخ رنگ کی مٹی اڑ رہی ہے اور انسان ہی انسان ہیں کوئی بلڈنگ نظر نہیں آرہی جیسے حشر کا میدان ہو۔ پھر مجھے پھولوں کے گلدستے سرخ کلر کے نظر آتے ہیں اور گرے رنگ کی ایک چادر کے ساتھ میں لپٹ جاتی ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ میرے اللہ نے مجھے اپنی پناہ میں لے لیا ہے اوروہاں مجھے بڑا سکون ملتا ہے اس دوران میرا دل بہت زیادہ اللہ پڑھ رہا ہوتا ہے اور ہلکا ہلکا لرز رہا ہوتا ہے اور دل تیز بہت تیز دھڑکتا ہے اور مجھے ایسے لگتا ہے کہ میرے دل کے اردگرد اللہ کے تمام نام لکھے ہوئے ہیں اور میرا دل چاندی کی طرح چمک رہا ہے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد مراقبہ ختم ہوجاتا ہے۔

About admin

Check Also

مراقبے سے علاج

مراقبے کے جب کمالات کھلیں گے تو حیرت کا انوکھا جہان اور مشکلات کا سو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *