مشکلات اور مسائل کی آگ بجھانے والا اسم اعظم

ایک صحابی کا اسم اعظم:
(حدیث) آنحضرت ا نے ایک شخص سے نماز میں یہ کہتے ہوئے سنا: ”اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسائلُکَ اَنَّکَ اَحَد صَمَدلَم تَتَّخِذ صَاِحبة وَلَا وَلَدًا۔ “تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اللہ تعالیٰ سے اس کے اسم اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے ۔ جس کے ساتھ جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ قبول فرماتا ہے۔ (الدرالنظیم ص:33)

اسم اعظم
لا الہ الا اﷲ :
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا الہ الا اﷲ ہی افضل الذکر ہے۔ (رواہ الترمذی) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ہے کہ لا الہ الا اﷲجنت کی کنجی ہے اس مفہوم کی احادیث متواتر المعنی آئی ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو اسم اعظم کے طور پر نقل کیا ہے۔ اور قاضی ثناءاللہ پانی(water) پتی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی تفسیر مظہری میں اس کو اسم اعظم کے تحت ذکر کیا ہے۔ ” لا الہ الا اﷲ“
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللّٰہ دخل الجنة۔ “
”جس شخص کے آخری بول لا الہ الا اللّٰہ ہوں گے تو وہ جنت میں داخل ہو گا(چاہے گناہوں کی سزا جھیل کر یا ان کی معافی کے ساتھ)۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ما قال عبدلا الہ الا اﷲ مخلصا الا فتحت لہ ابواب السماءحتی تفضی الی العرش ما اجتنبت الکبائر۔ “(اخرجہ النسائی فی عمل الیوم واللیلة ص: 382)”جو بندہ اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللّٰہ کہتا ہے اس کیلئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کا یہ کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے بشرطیکہ یہ شخص بڑے گناہوں سے بچتا ہو۔

اسم اعظم
”حَسبُنَا اللّٰہُ وَنِعمََ الوَکِیلُ“
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ”حَسبُنَا اللّٰہُ وَنِعمََ الوَکِیلُ“ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا جب آپ کو (نمرود کی) آگ میں ڈالا گیا تھا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ اس وقت فرمایا تھا جب منافقین نے مومنین کو ڈرایا تھا کہ کفار نے تمہارے مقابلے میں بہت سے لاﺅ لشکر جمع کر دئیے ہیں تم ان سے ڈرو لیکن صحابہ کرامرضی اللہ عنہ کا ایمان یہ بات سن کر اور بڑھ گیا اور کہنے لگے”حَسبُنَا اللّٰہُ وَنِعمََ الوَکِیلُ“ (ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔ ) (رواہ البخاری والنسائی والبیہقی فی دلائل النبوة)

حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ نے چونکہ اس کلمہ کو انتہائی مشکل کے وقت ادا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مشکل کشائی کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع کیلئے ان حضرات کا اسم اعظم یہی تھا۔ حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”حَسبُنَا اللّٰہُ وَنِعمََ الوَکِیلُ“ ہر خوفزدہ کیلئے امان ہے۔ (ابو نعیم فی الحلیة)

اسم اعظم
”بسم اﷲ الرحمن الرحیم“
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث:
(حدیث) حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”’یہ اللہ کے اسماءمیں سے ہے اس کے اور اللہ کے اسم اکبر کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا قرب میں آنکھ کی سیاہی اور سفیدی کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابن الربیع السائح سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے آپ سے عرض کیا مجھے اسم اعظم سکھلا دیں تو آپ نے فرمایا ”بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھو، اللہ کی اطاعت کرو ہر چیز تمہاری فرمانبردار بن جائے گی۔ (حلیہ ابو نعیم 8/ 328)

Leave a Reply

Close Menu
×
×

Cart