Home / others / نتھنوں سے روحانی ترقی حاصل کریں

نتھنوں سے روحانی ترقی حاصل کریں

نتھنوں سے روحانی ترقی حاصل کریں



سمندر کی طرح انسان بھی چاند کی خاص حالتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اس لیے کہ انسان کے وجود کے اندر بھی تو پچاسی فیصد پانی(water) ہے۔ روحانیت میں عملیات کے راستے پر چلنے کیلئے انسان کو چاند کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔
اور یہ صرف چاند پر ہی موقوف نہیں انسان اگر اپنی ذات کو دریافت کرنا چاہے یا اس میں سے کچھ حاصل کرنا چاہے تو اس کیلئے وہ تمام چیزیں اس کی معاون ثابت ہوں گی جو اس کائنات میں بکھری ہیں اور براہ راست انسان پر اثرانداز ہورہی ہیں۔
جیسے چاند کی خاص حالتوں میں سمندروں میں تلاطم اور ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ بعینہ وہی کیفیت انسان کی ہوتی ہے اور تو اور چاند کی خاص حالتوں میں انسان کی ذہانت اور اس کا آئی کیو بھی معمول سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ قمرزائد النور کے دنوں میں اچھی اور مثبت چیزوں کو حاصل کرنے کیلئے انسان کی صلاحیتیں بڑھ جاتی ہیں اور اس کے آر پار مثبت لہریں زیادہ طاقتور ہوجاتی ہیں۔ جب چاند زوال کی طرف جاتا ہے یا ناقص النور ہوجاتا ہے تو انسان کے اندر منفی powerیں طاقت حاصل کرلیتی ہیں۔
یہ تو ابتدائی باتیں ہیں۔ میں آپ کو انسانی معبود کی دیگر پوشیدہ حقیقتوں کے اسرارو رموز سے بھی آگاہ کروں گی۔ ہمارے دو نتھنے جن کی مدد سے ہم سانس لیتے ہیں ان کے بارے میں بھی علم کی ایک شاخ موجود ہے جسے ’’علم النفس‘‘ کہا جاتا ہے۔ دایاں نتھنا سورج اور بایاں نتھنا چاند ہے۔ دایاں نتھنا جسم میں حرارت پیدا کرتا ہے۔ بایاں نتھنا جسم میں ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔
اس کا تجربہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ اگر آپ کو سرما کی کسی رات کو بہت زیادہ سردی لگ رہی ہو تو آپ بائیں نتھنے میں روئی دے لیں اور دائیں طرف ہوکر لیٹ جائیں تاکہ آپ کا دایاں نتھنا مسلسل چلنا شروع ہوجائے۔ ایک گھنٹے بعد آپ کو بالکل سردی نہیں لگے گی بلکہ آپ اپنی رضائی بھی اتار پھینکیں گے۔ آپ نے دیکھا یا سنا ہوگا کہ درویش اور سادھو جنگلوں‘ صحراؤں اور برف پوش پہاڑیوں میں اس حالت میں رہتے ہیں کہ ان کے تن پر صرف ایک کپڑا ہوتا ہے۔ ان کے پاس یہی نکتہ ہوتا ہے وہ اپنے وجود میں حرارت پیدا کرلیتے ہیں۔یہ دونوں نتھنے ایک نظام کے تحت باری باری چلتے ہیں اور قمری کیلنڈر کے مطابق چلتے ہیں۔ چاند کی یکم کو صبح سورج نکلنے کے بعد دایاں نتھنا چل رہا ہوگا۔ اگر صبح سورج نکلنے کے بعددایاں نتھنا نہ چل رہا ہو تو پھر چاند کی تاریخ غلط ہے۔ علم النفس کی مدد سے بڑی بڑی بیماریوں کا مرض بھی کیا جاسکتا ہے اور اس سے بیماریوں کا پتہ بھی چلایا جاسکتا ہے۔ وہی یکم کی مثال سے لیں۔ صبح سورج طلوع ہونے کے بعد دایاں نتھنا چلے گا۔ دو گھنٹے بعد بایاں نتھنا چلے گا پھر دو گھنٹے بعد دایاں نتھنا چلنا شروع ہوجائے گا اور اس طرح دونوں نتھنے باری باری دو دو گھنٹے بعد چلتے رہیں گے جہاں ان میں فرق پڑے گا انسان بیمار ہوجائیگا۔کسی محفل میں اگر بارہ آدمی موجود ہوں او رگیارہ کے نتھنے ایک ترتیب کے مطابق چل رہے ہوں اور بارہویں کی ترتیب غلط ہوجائے تو وہ شخص یقینا کسی بیماری کا شکار ہوگا۔ علم النفس کا یہ سلسلہ چاند کی چال کے ساتھ ساتھ چلتا ہے یعنی ہمارا اورچاند کا ہروقت کا رابطہ ہے اور اس رابطے کے ذریعے بڑی بڑی روحانی منزلیں طے کی جاتی ہیں۔ حبس دم بھی علم النفس ہی کا ایک حصہ ہے جو ایک مربوط اور باقاعدہ روحانی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔جب جلالی چلہ کشی کی جاتی ہے تو عام طور پر دائیں نتھنے کو بند کردیا جاتا ہے تاکہ سانس میں ٹھنڈک آتی رہے۔ اس کا بھی ایک طریقہ ہے جو مرشد اپنی صوابدید کے مطابق استعمال کرواتا ہے کیونکہ وہ تو محرم راز ہے اور اسے چلہ کشی کے اسرارو رموز سے واقفیت ہے۔ اسے معلوم ہے کہ چلہ کاٹنے والے سے کہاں غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔
چلہ کشی یا روحانی منازل طے کرنے کے دوران مرشد یا استاد کا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ مناسب رہنمائی نہ ہو تو چلہ کاٹنے والے کا تعلق رنگ و نور کی دنیا سے بگڑ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو چلہ کاٹنے والے کا کائنات کے ساتھ بھی تعلق بگڑ جاتا ہے اور اس کا چلہ ہی بگڑجاتا ہے جس کے اپنے نقصانات ہیں۔ یا یوں سمجھ لیں کہ سردیوں(winter) کے موسم میں کوئی آدمی پسینے میں بھیگ رہا ہو اور ٹھنڈے پانی(water) کے حوض میں چھلانگ لگادے تو سرد گرم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح وہ چلہ کاٹنے کے دوران رنگ و نور کی دنیا اور کائنات سے تعلق منقطع کربیٹھے تو روحانی طور پر گرم سرد ہوجاتا ہے۔چنانچہ ایسا ہر عمل جس کا مقصد نیک ہو اس کیلئے بہترین وقت تہجد کا ہے یا پھر فجر کی نماز کے بعد کا وقت بھی افضل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک صاف لباس اچھی خوشبو صاف ستھرے کمرے قمرزائد النور یا طلوع آفتاب کو ملا کر ایک ایسی فضا تشکیل پاتی ہے جو نیک مقاصد کے حصول کیلئے بالکل قدرتی ہوتی ہے۔ اس وقت سورج بھی بہت طاقتور ہوتا ہے ان چیزوں کی وجہ سے انسان کے اندر مثبت powerیں بیدار ہوتی ہیں۔ اسی لیے تہجد کے وقت کو قبولیت دعا کا وقت بھی کہتے ہیں۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اسی لیے کہا تھا ؎
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی!
علامہ اقبال روحانی واردات سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ چوبیس گھنٹوں میں تہجد کا وقت سب سے زیادہ مقناطیسی power کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اس وقت تمام اشیاء مردہ ہوکر نئے سرے سے زندگی حاصل کرتی ہیں۔

About admin

Check Also

Diets that give energy but dont increase weight

There are many diets that give you energy but don’t increase your weight. These diets ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *