Breaking News
Home / بواسیر(Hemorrhoids) / ویرانhealth، اجڑا چہرہ اور تندرستی کی کرن

ویرانhealth، اجڑا چہرہ اور تندرستی کی کرن

(قارئین! آپ کے لیے قیمتی موتی چن کر لاتا ہوں اور چھپاتا نہیں، آپ بھی سخی بنیں اور ضرور لکھیں)

اس کا چہرہ دمک رہا تھا ۔ پیشانی چمک رہی تھی ۔ انگ انگ سے خو شی ٹپک رہی تھی اور بار بار مسکرا مسکرا کر وہ ایک بات کہتا تھا، آج بارہ سال ہوگئے ہیںمجھے پھر وہ تکلیف ہر گز نہیںہوئی ۔ ہاں یہ ہے جب میں اس تکلیف کا تصور کرتا ہوں تو میری پیشانی پسینے سے تر ہو جا تی ہے اور اس مر ض کا خوف، جلن ، دکھن ایسی کیفیت پیدا کر تی ہے کہ میں کا نپ جاتا ہو ںمگر اگلے ہی لمحے میری پیشانی شکر سے جھک جاتی ہے ۔
میری شلوار ہر وقت خون سے تر بتر رہتی تھی ۔ سیٹ ، مو ٹر سائیکل اور گاڑی پر سفر کرنامیرے لیے دشوار تھا ۔ جب قابض اور بادی چیزیں کھا لیتا، وہ دن میرے لیے نہا یت پریشان کن اور مشکل ہو تا۔ کئی لو گو ں نے کہا اس بوا سیر کاآپریشن کروالو ۔ میں نے اس آپریشن سے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن نہ بچ سکا۔ میں نے آپریشن سے بچنے کے لیے دوائیں کھائیں، پرہیز کر کر کے تنگ آگیا مگر مجبو راًمجھے آپریشن کروانا ہی پڑا۔ بہت سخت اور مشکل مرحلہ تھا ۔ کچھ عرصہ احتیا ط کی۔ ہا ں یہ benefit ضرور ہو ا کہ میں بالکل تند رست ہو گیا ۔ ہر چیز کھانے پینے لگا، خون کا بہنا، اجا بت کے بعد جلن اور تکلیف، طبیعت کی نڈھا لی ، دور ہو کر مرض سے سے افاقہ ہو گیا ۔
ایک رات اچانک مجھے پھر اسی تکلیف کا احساس ہوا اور میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا ۔ ایک دم اسی سابقہ تکلیف کا بھر پور احساس ہو ا۔ درد کو ختم کرنے کی دوائی تلا ش کرنے لگا جو کہ بہت پہلے میں رکھ کر بھول گیا تھا ۔ ایک طر ف تکلیف اور دوسری طرف دوائی کی تلا ش ۔ پھر کو شش یہ بھی تھی کہ گھر والوں کو تکلیف سے بچا لو ں ۔ میری وجہ سے ان کی نیند خرا ب نہ ہو ۔ بڑی مشکل سے درد ختم کرنے والی دوائیں ملی ۔ استعمال کی لیکن benefit نہ ہوا ۔ چبھن، ٹیسیںاور درد بڑھتا گیا ۔ ایمرجنسی میں ایک doctor کے پا س پہنچا ۔ بوا سیر کے درد نے بے چین کیا ہو ا تھا ۔ جب doctor کے منہ سے یہ لفظ نکلا کہ ٓاپریشن کے بعد دوائی بہت دیر سے اثر کر تی ہے تو پریشانی اور بڑھ گئی ۔ اب پھر وہی دوائیں ، پرہیز اور میری زندگی کی پریشانی ۔ یقین جانئیے میں زندگی سے عا جزآگیا ۔ وہ بوا سیر تھی یا کوئی نا قابل علا ج مر ض یا نا قابل تسخیر مہم ۔ روز رو رو کر اللہ سے دعا کرتا۔
ایک دن کیا ہو اکہ ایک پرانے دوست ملے۔ جو 35 سال سے سعودی عرب میں ملا زمت کر تے ہیں ۔ میریhealth،طبیعت اور بے قراری کو دیکھ کر سب احوال پو چھے۔ جب میں نے اپنا سا را غم بتایا تو کہنے لگے یہ تو کوئی problem نہیں ہے ۔ میں سا بقہ دوائیﺅں کی طر ح ان کی بات پر بے یقین رہا۔ خودگئے اور پنساری کی دکان سے ایک پا ﺅ (Fenugreek)میتھرے یا میتھی دانے ( جو اچار میں ڈالتے ہیں ) اور ایک پا ﺅچھوٹی الائچی دونو ں کو اکٹھا باریک پسوا لیا، ڈبے میں محفوظ کر کے میرے پا س لے آئے اور کہا لوپرانی دوستی کے نا طے ایک تحفہ دیتا ہو ں ۔ استعمال کرو اورHopefully شفایا بی پا ﺅ۔ میں نے بے یقینی سے ایک tea spoon صبح اور ایک شام استعمال کرنا شرو ع کر دیا۔ چند doses سے مجھے محسو س ہو ا کہ واقعی میں تند رست ہو رہا ہوں اور صرف دو ہفتے میں نے یہ دوائی استعمال کی اور ایسے محسو س ہوا جیسے میں آج تک مریض تھا ہی نہیں ۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں اس دن بہت خو ش تھا ۔ ایک بکر ا ذبح کیا ۔ خوب بہترین پلا ﺅ پکایا ۔ خود بھی کھا یا اور اپنے احباب کو کھلایا۔ آج اس لیے میرا چہرہ دمک رہا ہے اورمیں خوش ہو ں ۔
پھر میں نے یہ نسخہ اپنے جیسے اوروں کو دینا شروع کردیا ۔ جس کو بھی دیتا وہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تندرست ہو جا تا ہے، بواسیر(Hemorrhoids) جڑ سے اکھڑ جا تی ہے ۔ یقین جا نئیے بواسیر(Hemorrhoids) بادی یا خونی، موکے ہو ں یا خشک(dry) ان سب کے لیے لو گو ںنے تصدیق کر نا شروع کردی ۔ جو بھی لیتا دعائیں دیتا ۔ پھر لوگوں نے مجھ سے نسخہ پو چھنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا میں بنا کر تو دے سکتا ہو ں، نسخہ نہیں دے سکتا ۔ اب تو عالم یہ ہو ا کہ لو گ دور دور سے آنے لگے اور بواسیر(Hemorrhoids) کے علا وہ لوگوں نے اس کے اور فائدے بتانے بھی شروع کر دیے ،جو میرے علم میں بھی نہیں تھے ۔ مثلاً ایک صاحب کہنے لگے اس دوائی سے اب تک 23 ہیپا ٹائٹس کے مریض تندرست ہوئے۔ جو انجکشن کا کو ر س کرنے کے بعد لاکھو ں روپیہ لگا نے کے بعد بھی لا علا ج تھے ۔
لو ہے کی دکان کے مالک ایک شیخ صاحب یہ دوائی کئی سا لو ں سے مسلسل لے جا رہے تھے ۔ میں نے کہا آپ کے بوا سیر کے مریض ابھی تک تندرست نہیں ہوئے ۔ ہنس کرکہنے لگے ۔ حاجی صاحب آپ کو پتا ہی نہیں اس دوائی کے او ر بہت سے فائدے ہیں۔ ہیپا ٹائٹس کے ما یو س مریضs کو دیتا ہو ں ۔ مہینہ ، دو مہینے یا اس سے زیادہ اور بعض اس سے بھی کم عرصے میں تندرست ہو تے دیکھے ہیں ۔ جو ڑوں کے درد کے پرانے سے پرانے مریض جن کے جسم کا کوئی بھی حصہ حرکت نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ تندرست ہو ئے ۔ عام اعصابی کمزور ی ،جسمانی weakness ،پٹھوں کا کچھاﺅ ، تھکان ، عورتوں اور مردو ں کے کمر کا درد ، مہروں اور ڈسک کے مسائل حیرت انگیز طور پر بہتر ہوئے ۔ بلکہ عجیب بات یہ ہے کئی مریضs کے دل کے والو کھل گئے اور گِن کر میں نے اب تک 63 مریضs کو یہ دوائی دی ہے ۔ جو ازدوائیجی زندگی سے باکل غیر مطمئن اور ما یوس تھے ان میں جوان ، بڑے بوڑھے تک شامل ہیں ۔ خوا تین میں ایام کی بے قاعدگی ، مو ٹا پا اور Likoria کے امراض کے لیے یہ نسخہ بہتمفید ہے۔ مر دو ں میں اولا د کے جرا ثیمو ں کی کمی تک کو دور کر تا ہے ۔ شیخ صاحب ایک ہی سانس میں یہ ساری بات کہہ گئے اور میں حیرت سے ان کا منہ تکتا رہ گیا کہ میرے پا س اتنا قیمتی نسخہ ہے اور مجھے اس کی قدر دانی نہیں ۔ ایک ریٹا ئر حوالدار سے میں نے سوال کیا کہ آپ بہت عرصے سے یہ دوائی لے جاتے ہیں ۔ آخر کیا کر تے ہیں ؟کہنے لگے میں گزشتہ سات سال سے وقتا فوقتا یہ دوائی لے جا تا ہو ں ۔ بے اولا د جو ڑے مرد بھی اور عورت بھی پانچ ماہ یہ کھا لیں تو Hopefully شرطیہ بیٹا پیدا ہوتا ہے۔ جو ڑوں کے درد، اعصابی weakness، بالو ں کی سفیدی ، دائمی نزلہ(Flu) اور زکام سینکڑوں چھینکوںکا روز آنا ، معدے کی گیس اور جلن ، تیز ابیت ، دائمی قبض اور آنتوں کی خشک(dry)ی ، ان سب کے لیے ایک چھوٹا tea spoon گرم milk یا پانی(water) کے ساتھ صبح و شام دیتا ہو ں ۔ایک مریض دوسرے مریض لا تا ہے ۔ آپ لوگو ں سے اپنے سینے کے راز نہیں چھپاتے لہذا آج میں اتنا لمبا سفر کرکے محض آپ کو یہ نسخہ بتانے آیا ہو ں ۔ قارئین حاجی صاحب نے جو سینے کا را ز ڈر تے ڈرتے اور چھپتے چھپتے مجھے بتایا ہے وہ آپ کی نظر کر تا ہو ں ۔ اس کے مزید فوائد اور نتا ئج مجھے بتانا نہ بھو لیے گا ۔

About admin

Check Also

ہیپاٹائٹس علامات‘ بیماری اور شافی علاج

ہیپاٹائٹس علامات‘ بیماری اور شافی علاج ہمارا اصرار ہے کہ جس طرح لوگ اپنے بلڈپریشر ...

One comment

  1. asalam alaikum hakeem sahab mujay arsa 20 saal say shadeed qabaz ki shikayat hai app say guzarish hai agar app yeh nuskha mazeed explain karday q k meethray ko may nahi janti aur choti ilayaechi konsi wali tau app ki bari mehrubani hogi aur iss nuskhay kay aur bhi bohot fawaid hai.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *