ڈیپریشن انسانی خوشیوں کا قاتل

 

ڈیپریشن میں مبتلا افراد کے سرپر کسی بھی افسوسناک واقعہ یا کسی چیز کے واقع ہونے کا خوف مستقل سوار رہتا ہے اور یہ خوف اور درد وہ اس وقت تک محسوس کرتے رہتے ہیں جب تک کہ انہیں اس بات کا اچھی طرح یقین نہ ہوجائے کہ وہ جو سوچ رہے ہیں وہ غلط ہے

 

ہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ دکھ اور سکھ ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں اگر دکھ نہ ہوں تو ہمارے لیے خوشی کی پہچان کرنا بھی ممکن نہ ہو۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو خوشی اور غم کے احساسات سے واقف نہ ہو۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ خوشیوں کی ہم خواہش کرتے ہیں جبکہ دکھ اور پریشانیوں سے ہمارا نہ چاہتے ہوئے بھی واسطہ پڑجاتا ہے لیکن ہمارےhealth مند(healthy) فرد ہونے کی علامت یہ ہے کہ ہم حقائق کو قبول کرتے ہوئے کسی بھی تلخ یا افسوسناک واقعے کو بھلا کر خوشیوں کی تلاش کا سفر جاری رکھتے ہیں لیکن ڈیپریشن کے دوران ایسا کرنا ممکن نہیں رہتا۔ انسان پر دکھ اور پریشانیاں مستقل طور پر مسلط ہوجاتی ہیں۔ یہاں تک کہ پھر مریض کے سامنے کسی بڑی سی بڑی خوشی کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ اس قسم کو عام الفاظ میں ڈیپریشن کہا جاتا ہے۔

 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپریشن صرف ایک عام مرض ہی نہیں بلکہ ذیابیطس کی طرح ایک حیاتیاتی بیماری ہے البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ اس مرض کی علامات نفسیاتی ہیں۔ دراصل اس کی وجہ انسانی ذہن میں ہونے والی حیاتیاتی کیمیائی تبدیلیاں ہیں جو اسے زندگی سے مایوس اور بیزار بنادیتی ہیں۔

 

ایک عام مشاہدے کے مطابق معاشرے کا ہر طبقہ اس مرض کی یکساں زد میں ہے۔ انتہائی امیر اور انتہائی غریب افراد بھی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ 90 فیصد افراد محض یہ سوچ کر مرض کی طرف راغب نہیں ہوتے کہ لوگ کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ انہیں کسی دماغی مسئلے کا سامنا ہے یا وہ ذہنی خرابی کا شکار ہیں۔ صرف 10 فیصد افراد ایسے ہیں جو اسے نہ صرف ایک مرض سمجھتے ہیں بلکہ اپنا مرض کرانا بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ کراچی کے ایک جنرل پریکٹیشنر کے مطابق ہمارے ہاں مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں ڈیپریشن کا رجحان کہیں زیادہ ہے۔ 4 عورتیں میں سے ایک خاتون اور سات مردوں میں سے ایک مرد اپنی زندگی میں ڈیپریشن کاکبھی نہ کبھی سامنا ضرور کرتا ہے۔

 

بعض لوگوں کے خیال میں ایسی عورتیں جن کے شوہروں کی آمدنی کم ہوتی ہے یا جن کے معاشی حالات انتہائی خراب ہوتے ہیں انہیں ڈیپریشن کا زیادہ خطرہ رہتا ہے لیکن doctorز کی رائے میں یہ خیال درست نہیں کیونکہ ایسی بیشتر اعلیٰ سوسائٹیز کی عورتیں دیکھی گئی ہیں جنہیں کسی قسم کی مالی پریشانیوں کا سامنا نہیں ہوتا لیکن وہ کم آمدنی رکھنے والی عورتیں کے مقابلے میں ڈیپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔

 

ڈیپریشن میں مبتلا افراد کے سرپر کسی بھی افسوسناک واقعہ یا کسی چیز کے واقع ہونے کا خوف مستقل سوار رہتا ہے اور یہ خوف اور درد وہ اس وقت تک محسوس کرتے رہتے ہیں جب تک کہ انہیں اس بات کا اچھی طرح یقین نہ ہوجائے کہ وہ جو سوچ رہے ہیں وہ غلط ہے اور ایسا کچھ ہونے والا نہیں ہے یا پیش آئندہ مشکل حالات پر وہ کسی نہ کسی طرح قابو پالیں گے لیکن doctorوں کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ ڈیپریشن کے مریضs کو پُرامید زندگی کی طرف واپس لانا اتنا آسان کام نہیں۔ طبی لحاظ سے دیگر جسمانی امراض کی طرح ڈیپریشن کی بھی تشخیص و research بروقت ہونی چاہیے اسی طرح جیسے دیگر امرض کے شکار افراد کو مرض‘ توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ڈیپریشن میںمبتلا افراد بھی اس کا حق رکھتے ہیں۔

 

ڈیپریشن کے معاملے میں دنیا بھر کے مقابلے میں شاید ہمارا واحد ملک ہے جہاں ڈیپریشن کو پاگل پن کے مصداق تصور کیا جاتا ہے اورسائیکاٹرسٹ کے پاس جانا تو جیسے قطعی ممنوع ہے۔ لوگ اس معاملے میں خاموش رہنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جبکہ ڈیپریشن کا شکار مریض گھر والوں کیلئے کوئی problem پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اپنے اندر کی خاموش اور دردful آوازیں خود ہی سنتا رہتا ہے۔ خاص طور پر عورتیں اپنے مرض کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہیں شوہر سمیت خاندان کے دیگر قریبی افراد بھی انہیں بیمار تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔ چنانچہ ان حالات میں مریضہ کو کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بعض جگہ ایسی کوششوں کی مزاحمت بھی کی جاتی ہے۔ نتیجے میں عورتیں اپنے مرض کے بارے میں کچھ جاننے سے قاصر رہتی ہیں اور بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے سبب اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اکثر عورتیں نیند کی گولیوں کے ساتھ اپنا مرض خود ہی کرنا شروع کردیتی ہیں۔

 

ہمارے ہاں ایک اورافسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ doctor کے نسخے کے بغیر ہر قسم کی دوائی میڈیکل سٹور سے لے سکتے ہیں یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ کوئی شخص یہ تجویز کرلے کہ مجھے چونکہ کسی مسئلے میں ایک مخصوص دوائی سے آرام آگیاتھا لہٰذا یہ دوائی ہر بیماری کیلئےمفید ہے۔

 

doctorوں نے کئی ایسے شواہد بھی جمع کرلیے ہیں جن کے مطابق ڈیپریشن کے دوران جسم کا مدافعتی نظام بھی شدید دبائو کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کیفیت میں مریض کے دل کی دھڑکن غیرمعمولی تیز ہوجاتی ہے‘ بلڈپریشر‘ انسولین اور کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ جسم میں خون کے تھکے (Blood Clotting) بھی زیادہ تیزی سے بننے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو امراض قلب کے علاوہ اور بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

 

ڈیپریشن کے اسباب مختلف لوگوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی کئی شکلیں اور کئی درجے ہیں لیکن عام طور پر تین قسم کے ڈیپریشن ہمارے ہاں زیادہ عام ہیں۔ طبی ڈیپریشن یا میجر ڈیپریشن‘ ڈس تھیمیا اور مینک ڈیپریشن۔

 

میجر ڈیپریشن کے شکار مریضs کی سماجی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور ان کے مرض کیلئے بھی خاصا وقت لگتا ہے۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ تمام قسم کے ڈیپریشن قابل مرض ہیں لیکن یہ بہت ہی اچھی بات ہوگی کہ ابتدا ہی میں doctor سے مدد لے لی جائے۔ ماہرین کے خیال میں عورتیں میں مردوں کے مقابلے میں ڈیپریشن زیادہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورتیں بہت حد تک سماجی تعاون سے محروم رہتی ہیں جبکہ مردوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ وہ اپنی کاروباری پریشانیاں‘ گھریلو پریشانیاں یہاں تک کہ ازدوائیجی معاملات پر بھی آپس میں کھل کر بات کرلیتے ہیں کیونکہ دل کی بھڑاس نکالنے کیلئے ان کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی موجود ہوتا ہے جبکہ عورتیں گھروں میں تنہائی کا شکار رہتی ہیں یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں رہنے والی عورتیں میں بھی ایک دوسرے سے تعاون اور ہمدردی کے مظاہرے کم ہی ہوتے ہیں۔

 

خدانخواستہ اگر آپ میں ڈیپریشن کی کوئی علامت پائی جاتی ہے تو ان تمام باتوں کے باوجود یہ چیز ذہن میں رکھیں کہ ”ڈیپریشن کا مرض خود آپ کے ہاتھوں میں ہے“ معالج آپ کا ہاتھ تھام سکتا ہے لیکنhealth مند(healthy)ی کی طرف چلنے کیلئے پہلا قدم آپ کو خود اٹھانا پڑے گا۔ بہادر بنیں اور قدم اٹھانے کیلئے تیار ہوجائیں۔

Leave a Reply

Close Menu
×
×

Cart